پوسترتولیدات

همین آش و همین کاسه!

رهبر معظم انقلاب


امروز میگویند اگر چنانچه غنی‌سازی داشته باشید، ما چنین و چنان میکنیم؛ فردا میگویند اگر موشک داشته باشید، ما چنین و چنان میکنیم؛ مدام تهدید [هست] و مجبوریم که در مقابل تهدیدهای دشمن عقب‌نشینی کنیم. یعنی قبول مذاکره‌ای را که با تهدید همراه است، هیچ ملّت باشرفی انجام نمیدهد،‌ هیچ سیاستمدار خردمندی هم آن را تصدیق نمیکند. ( رهبر انقلاب | ۱۴۰۴/۰۷/۰۱ )


الأمر على حاله، لا جديد فيه!
اليوم يقولون: إذا كان لديكم تخصيب (لليورانيوم)، فسنفعل كذا وكذا؛
وغداً يقولون: إذا امتلكتم صواريخ، فسنفعل كذا وكذا.
التهديد مستمر، ويُراد منّا أن نتراجع أمام تهديدات العدو، أي أن نقبل بمفاوضةٍ مقرونة بالتهديد.
لكن ما من أمّةٍ ذات شرفٍ تفعل ذلك، ولا أيّ رجل سياسةٍ عاقلٍ يقرّ به
قائد الثورة: ۳۰ ربیع الاول ۱۴۴۷


پرانی ڈگر، وہی قصہ!

رہبر معظم انقلاب اسلامی

آج وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس (نیوکلیئر) افزودگی ہوگی، تو ہم ایسا ویسا کریں گے؛ کل کو وہ کہیں گے کہ اگر آپ کے پاس میزائل ہوں گے، تو ہم ایسا ویسا کریں گے۔ یہ دھمکیاں لگاتار جاری ہیں، اور ہم سے یہ چاہا جا رہا ہے کہ ہم دشمن کی دھمکیوں کے سامنے پسپا ہو جائیں۔

یعنی ایک ایسی بات چیت کو قبول کر لیں جو دھمکیوں کے ساتھ ہو۔ کوئی بھی باوقار قوم اس طرح کی بات چیت کو قبول نہیں کرے گی اور نہ ہی کوئی دانا سیاست دان اسے درست قرار دے گا۔


The Same Old Story!
Today they say, ‘If you have [nuclear] enrichment, we’ll do such-and-such.’ Tomorrow they’ll say, ‘If you have missiles, we’ll do such-and-such.’ It is constant threats, and we are forced to retreat against the enemy’s threats. That is to say, no honorable nation will accept a negotiation accompanied by threats, nor will any wise politician approve of it.
The Leader of the Islamic Revolution, September 23, 2025

نمایش بیشتر

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

دکمه بازگشت به بالا